جمعرات، 22 جون، 2017
0
Biddati Ya Biddat Krne Wale Ki Saza / بدعتی کی سزا

شریعت اسلامیہ میں بدعت کی تعریف یہ ہے کہ دین میں ہر ایسا نیا کام جو ثواب کی نیت سے کیا جائے جبکہ اُس کام کا حُکم نہ ہی قرآن مجید میں ہو اور نہ ہی احادیث مبارکہ میں اُس کام کے کرنے کا کوئی ذکر یا حکم موجود ہو۔
مثال کے طور پر نماز شروع کرنے سے پہلے زبان کے الفاظ سے نیت کرنا ایک بدعت ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی حکم نہیں ۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے نیت دل کے ارادے کا نام ہے ۔ اب دل کے ارادے کا مطلب زبان کے الفاظ سے ادائیگی نہیں اور وہ بھی کوئی پشتو میں نیت کر رہا ہے تو کوئی پنجابی میں حالانکہ شریعت اسلامیہ ساری کی ساری عربی زبان میں نازل ہوئی۔
یقیناً ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو (سورۃ یوسف: 2)۔
جیسا کہ صحیح احادیث میں کُلُ بدعتہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جس کا صاف صاف مطلب ہے ہر قسم کی بدعت گمراہی اور ضلالت ہے اور ضلالت جہنم میں ہے۔ کیونکہ کچھ جاہل مولویوں نے بدعت حسنہ کا تعارف دے کر عوام کو دھوکے میں رکھا ہوا ہے حالانکہ احادیث میں حسنہ بدعت نام کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی (سورۃ المائدہ: 3)۔
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ چند یہودیوں نے کہا، اگر یہ آیت کریمہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: وہ کون سی آیت کریمہ ہے؟ انہوں نے کہا: "آج کے دن میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کر لیا" حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میں جانتا ہوں یہ آیت کس مقام پر نازل ہوئی! یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ میدان عرفات میں تشریف فرما تھے۔ (صحیح بخاری، جلد4، کتاب المغازی، حدیث نمبر:4407)۔
درج بالا آیت اور حدیث سے صاف ظاہر ہے اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی میں ہی اللہ رب العزت نے دینِ اسلام کو مکمل فرما دیا تھا۔ اب اس کے بعد کوئی شخص دین میں نئی ایجاد کرے جس کا مقصد حصولِ ثواب ہو جبکہ اُس کا ذکر نہ قرآن میں ہو اور نہ ہی حدیث میں تو وہ ایجاد بدعت شمار ہو گی۔ یاد رہے بدعت پر عمل کرنا، بدعت کو فروغ دینا، بدعت کی اشاعت کرنا، بدعتی کے ساتھ مالی تعاون کرنا وغیرہ بھی بدعت کا ہی حصہ شمار ہوں گے۔
آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھےجو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وہ بہت برا تھا (سورہ المائدہ:79)۔
بدعت چونکہ ایک جہنم میں لے جانے والا عمل ہے لہذا اللہ رب العزت ہم مسلمانوں کو بدعات کرنے اور بدعات کو فروغ دینے سے معفوظ فرمائیں اور ہمیں بدعات کا رَد کرنے والوں میں شامل فرمائیں (اللھم آمین) ۔
مثال کے طور پر نماز شروع کرنے سے پہلے زبان کے الفاظ سے نیت کرنا ایک بدعت ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی حکم نہیں ۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے نیت دل کے ارادے کا نام ہے ۔ اب دل کے ارادے کا مطلب زبان کے الفاظ سے ادائیگی نہیں اور وہ بھی کوئی پشتو میں نیت کر رہا ہے تو کوئی پنجابی میں حالانکہ شریعت اسلامیہ ساری کی ساری عربی زبان میں نازل ہوئی۔
یقیناً ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو (سورۃ یوسف: 2)۔
جیسا کہ صحیح احادیث میں کُلُ بدعتہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جس کا صاف صاف مطلب ہے ہر قسم کی بدعت گمراہی اور ضلالت ہے اور ضلالت جہنم میں ہے۔ کیونکہ کچھ جاہل مولویوں نے بدعت حسنہ کا تعارف دے کر عوام کو دھوکے میں رکھا ہوا ہے حالانکہ احادیث میں حسنہ بدعت نام کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی (سورۃ المائدہ: 3)۔
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ چند یہودیوں نے کہا، اگر یہ آیت کریمہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: وہ کون سی آیت کریمہ ہے؟ انہوں نے کہا: "آج کے دن میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کر لیا" حضرت عمر ؓ نے فرمایا: میں جانتا ہوں یہ آیت کس مقام پر نازل ہوئی! یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ میدان عرفات میں تشریف فرما تھے۔ (صحیح بخاری، جلد4، کتاب المغازی، حدیث نمبر:4407)۔
درج بالا آیت اور حدیث سے صاف ظاہر ہے اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی میں ہی اللہ رب العزت نے دینِ اسلام کو مکمل فرما دیا تھا۔ اب اس کے بعد کوئی شخص دین میں نئی ایجاد کرے جس کا مقصد حصولِ ثواب ہو جبکہ اُس کا ذکر نہ قرآن میں ہو اور نہ ہی حدیث میں تو وہ ایجاد بدعت شمار ہو گی۔ یاد رہے بدعت پر عمل کرنا، بدعت کو فروغ دینا، بدعت کی اشاعت کرنا، بدعتی کے ساتھ مالی تعاون کرنا وغیرہ بھی بدعت کا ہی حصہ شمار ہوں گے۔
آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھےجو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً وہ بہت برا تھا (سورہ المائدہ:79)۔
بدعت چونکہ ایک جہنم میں لے جانے والا عمل ہے لہذا اللہ رب العزت ہم مسلمانوں کو بدعات کرنے اور بدعات کو فروغ دینے سے معفوظ فرمائیں اور ہمیں بدعات کا رَد کرنے والوں میں شامل فرمائیں (اللھم آمین) ۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
























ایک تبصرہ شائع کریں