بدھ، 28 جون، 2017
0
نماز عیدین یعنی عید الفطر اور عید الضحیٰ کی ادائیگی کا سنت طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت بمعہ 12 زائد تکبیریں ادا کرنی ہیں۔ جو لوگ 6 زائد تکبیروں کے ساتھ پڑھتے ہیں اُن کو فکر کرنی چاہیئے کیونکہ ایک تو سنت کو چھوڑ کر اپنی عبادت ضائع یا نا مکمل کر رہے ہیں دوسرا انکارِ صحیح احادیث کے مرتکب ٹہر رہے ہیں۔ بہرحال اسلام میں عملِ صالح کی تعریف بھی یہی ہے کہ کوئی بھی عبادت کرنی ہو اُس کا مقصد اللہ صرف اور صرف اللہ کے لیے ہو اور دوسرا وہ عمل سنت کے مطابق ہو۔ جو اعمال سنت کے مطابق نہیں ہوں گے اُن کا قیامت کے دن کوئی وزن نہیں تولہ جائے گا بشرطیکہ اتمام حجت ہو چکی ہو۔
زبان سے نیت نہیں کی جائے گی جیسا کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے اورویسے بھی حدیث میں نیت کرنے کا کہا گیا ہے ، نیت پڑھنے کا نہیں۔
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو سینے، کندھوں یا کانوں کی لو تک اٹھانے ہیں۔ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں کے ساتھ مس کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں لہذا عمل کو سنت کے مطابق سینے، کندھوں یا کان کے نیچلے حصے کے برابر اٹھائیں جس کو رفع الیدین کہتے ہیں۔
سورۃ فاتحہ کی قرات سے پہلے 7 زائد تکبیریں ہیں جن میں ہر ایک کے ساتھ رفع الیدین کرنا لازم ہے۔
امام کی سورۃ فاتحہ کی قرآت کے ساتھ مقتدیوں پر لازم ہے کہ اپنی اپنی سورۃ فاتحہ ہونٹوں اور زبان کی ادائیگی کے ساتھ یقینی بنائیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جس کی فاتحہ نہیں اُسکی نماز نہیں۔
امام کی والضالین کہنے پر بلند آواز سے آمین کہیں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی آمین سےمسجد گونج اٹھتی تھی اور دوسرا اس بلند آمین سے یہود بھی حسد کرتے تھے۔
اسی طرح پہلی رکعت امام کے ساتھ مکمل کریں اور دوسری رکعت میں امام کی سورۃ فاتحہ کی قرآت سے پہلے 5 زائد تکبیرات ہیں اور پہلی رکعت کی طرح ہر رکعت میں رفع الیدین کرنا ہے۔
اسی طرح دوسری رکعت بھی امام کے ساتھ مکمل کریں۔
امام کو خطبہ نماز کے بعد دینا ہے
امام کو خطبہ کھڑے ہو کر دینا ہے اگر کوئی شرعی عُذر نہ ہو تو
نمازِ عید سے پہلے اذان اور اقامت نہیں پڑھی جائے گی
سنت کے مطابق کھلے آسمان میں عید کی نماز ادا کریں اور اگر مجبوری درپیش ہو تو مسجد میں بھی پڑھ سکتے ہیں بہرحال مسجد جا کر بیٹھنے سے پہلے 2 رکعت تحتہ المسجد ضرور ادا کریں کیونکہ نماز سے پہلے کوئی نفلی نماز والی حدیث عید گاہ یا کھلے گراؤنڈ وغیرہ کے لیے مخصوص ہے تو اگر آپ نمازِ عید مسجد میں ادا کریں گے تو کتاب الجمعہ میں موجود مسجد میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا کرنا لازمی ہے
دعا کے بعد ایک دوسرے سے بھائی چارے اور محبتیں باٹنے اور دلوں کو بغض حسد اور کینہ وغیرہ سے پاک کرنے کے لیے گلے لگا کر ملیں تاکہ اللہ رب العزت مسلمانوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیں اور زبان سے عید مبارک کے الفاظ کی بجائے، تقبل اللہُ منی و منکم کے الفاظ ادا کریں۔
Eid ul Fitr aur Eid ul Azha Ki Namaz K Masail / نماز عیدین کی ادائیگی کا طریقہ

نماز عیدین یعنی عید الفطر اور عید الضحیٰ کی ادائیگی کا سنت طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت بمعہ 12 زائد تکبیریں ادا کرنی ہیں۔ جو لوگ 6 زائد تکبیروں کے ساتھ پڑھتے ہیں اُن کو فکر کرنی چاہیئے کیونکہ ایک تو سنت کو چھوڑ کر اپنی عبادت ضائع یا نا مکمل کر رہے ہیں دوسرا انکارِ صحیح احادیث کے مرتکب ٹہر رہے ہیں۔ بہرحال اسلام میں عملِ صالح کی تعریف بھی یہی ہے کہ کوئی بھی عبادت کرنی ہو اُس کا مقصد اللہ صرف اور صرف اللہ کے لیے ہو اور دوسرا وہ عمل سنت کے مطابق ہو۔ جو اعمال سنت کے مطابق نہیں ہوں گے اُن کا قیامت کے دن کوئی وزن نہیں تولہ جائے گا بشرطیکہ اتمام حجت ہو چکی ہو۔
عید کی نماز کی ادائیگی کا طریقہ و مسائل
زبان سے نیت نہیں کی جائے گی جیسا کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے اورویسے بھی حدیث میں نیت کرنے کا کہا گیا ہے ، نیت پڑھنے کا نہیں۔
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو سینے، کندھوں یا کانوں کی لو تک اٹھانے ہیں۔ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں کے ساتھ مس کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں لہذا عمل کو سنت کے مطابق سینے، کندھوں یا کان کے نیچلے حصے کے برابر اٹھائیں جس کو رفع الیدین کہتے ہیں۔
سورۃ فاتحہ کی قرات سے پہلے 7 زائد تکبیریں ہیں جن میں ہر ایک کے ساتھ رفع الیدین کرنا لازم ہے۔
امام کی سورۃ فاتحہ کی قرآت کے ساتھ مقتدیوں پر لازم ہے کہ اپنی اپنی سورۃ فاتحہ ہونٹوں اور زبان کی ادائیگی کے ساتھ یقینی بنائیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جس کی فاتحہ نہیں اُسکی نماز نہیں۔
امام کی والضالین کہنے پر بلند آواز سے آمین کہیں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی آمین سےمسجد گونج اٹھتی تھی اور دوسرا اس بلند آمین سے یہود بھی حسد کرتے تھے۔
اسی طرح پہلی رکعت امام کے ساتھ مکمل کریں اور دوسری رکعت میں امام کی سورۃ فاتحہ کی قرآت سے پہلے 5 زائد تکبیرات ہیں اور پہلی رکعت کی طرح ہر رکعت میں رفع الیدین کرنا ہے۔
اسی طرح دوسری رکعت بھی امام کے ساتھ مکمل کریں۔
دیگر مسائل
امام کو خطبہ نماز کے بعد دینا ہے
امام کو خطبہ کھڑے ہو کر دینا ہے اگر کوئی شرعی عُذر نہ ہو تو
نمازِ عید سے پہلے اذان اور اقامت نہیں پڑھی جائے گی
سنت کے مطابق کھلے آسمان میں عید کی نماز ادا کریں اور اگر مجبوری درپیش ہو تو مسجد میں بھی پڑھ سکتے ہیں بہرحال مسجد جا کر بیٹھنے سے پہلے 2 رکعت تحتہ المسجد ضرور ادا کریں کیونکہ نماز سے پہلے کوئی نفلی نماز والی حدیث عید گاہ یا کھلے گراؤنڈ وغیرہ کے لیے مخصوص ہے تو اگر آپ نمازِ عید مسجد میں ادا کریں گے تو کتاب الجمعہ میں موجود مسجد میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا کرنا لازمی ہے
دعا کے بعد ایک دوسرے سے بھائی چارے اور محبتیں باٹنے اور دلوں کو بغض حسد اور کینہ وغیرہ سے پاک کرنے کے لیے گلے لگا کر ملیں تاکہ اللہ رب العزت مسلمانوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیں اور زبان سے عید مبارک کے الفاظ کی بجائے، تقبل اللہُ منی و منکم کے الفاظ ادا کریں۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)















ایک تبصرہ شائع کریں