0

Single Rakaht Witr Parhne Ka Saboot / وتر ایک رکعت

on 6:41 PM | by
| Posted in نمازمحمدی, وتر


نماز وتر عشاء اور نماز تہجد یا قیام الیل کے درمیان پڑھی جانے والی نماز ہے جس کا وقت نمازِ عشاء سے لے کر صبح فجر کے اول وقت تک ہوتا ہے۔ اس نماز کی رکعت جو صحیح احادیث میں آئی ہیں وہ 1 رکعت سے لے کر 13 رکعت تک ثابت ہیں۔ لیکن چونکہ اصولِ حدیث کے مطابق اکثریت کو ترجیح جاتی ہے جو کہ 3 رکعت ہیں۔ بہر حال 1 رکعت پڑھنے کی بھی تقریباََ 30 احادیث موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی مسلمان 5، 7، 9، 11 یا 13 رکعت بھی پڑھے تب بھی جائز ہے۔

نماز وتر اور فجر کی سنتوں کی اتنی اہمیت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نےاکثر سفر کے دوران بھی ان دونوں کو نہیں چھوڑتے تھے۔ بہرحال ایک رکعت وتر پڑھنے کو بعض حنفی حضرات جائز نہیں سمجھتے تو اُن حضرات کے لیے پھکی حاضر ہے۔

صحیح حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا نماز وتر کو مغرب کی نماز کی طرح نا پڑھو۔ لہذا 3 وتر پڑھنے کے 2 طریقے ثابت ہیں۔ ان شاء اللہ وتر کی نماز کی ادائیگی پر الگ سے پوسٹ بنائی جائے گی۔

پہلا طریقہ یہ ہے کہ 3 رکعت اگر اکٹھی پڑھی جائیں تو دوسری رکعت میں تشہد میں نہیں بیٹھا جائے گا جیسا کہ پہلی رکعت میں سیدھے اٹھ کھڑتے ہوتے ہیں ویسے ہی دوسری رکعت میں بھی کھڑے ہو جائیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ 2 رکعت پر سلام پھیر دیں اور 1 رکعت الگ سے پڑھ لیں ۔اس طرح وتر کی نماز طاق بن جائے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں